ابنا: ذمہ دار ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ایوان صدر کی جانب سے چیف جسٹس کو بھجوائے جانے والے خط میں صدر زرداری نے افتخار محمد چوہدری سے کہا ہے کہ انہوں نے رواں سال اپریل میں آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک ریفرنس انہیں ارسال کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم و پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کی سماعت دوبارہ شروع کرنے کی استدعا کی گئی تھی جس کے بعد جون تک اس کیس کی سماعت کی گئی تاہم گزشتہ پانچ ماہ سے یہ کیس التواء کا شکار ہے لہذا اس کیس کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ریفرنس میں قتل کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سمیت کچھ سوالات بھی انہیں بھجوائے تھے جس کا مقصد عدالت کی رہنمائی کرنا تھا جبکہ پاکستان کی عدلیہ اور تاریخ پر ذوالفقار علی بھٹو کا قتل ایک بدنما داغ ہے اور اس داغ کو دھونے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے اپنے خط میں کچھ قرآنی آیات کا بھی ذکر کیا اور چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کیس ریفرنس کی سماعت جلد شروع کریں۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے تصدیق کی کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھٹو ریفرنس کے حوالے سے ایک خط لکھا گیا ہے جس میں صدر مملکت نے ریفرنس کی جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس جون 2011 سے اعلیٰ عدلیہ کے بعض ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد التواء کا شکار ہے اور یہ کیس سابق وزیر قانون بابر اعوان لڑرہے ہیں جنہوں نے وزارت قانون کے قلمدان سے استعفیٰ دیکر ذوالفقار علی بھٹو.
.............
/169